https://youtube.com/@pindiexpressoffical?si=rsRnFiXMeFg9kpDG
Coulmnist🇵🇰
Coulmn News Bloges Vedios Articles
جمعرات، 29 جنوری، 2026
جمعرات، 24 اگست، 2023
ہمسفر
https://youtube.com/shorts/OckKutjb2Nc?si=7dRVqcELCqE1xPR7
منگل، 22 اگست، 2023
اتوار، 13 اگست، 2023
ہفتہ، 5 اگست، 2023
جمعہ، 4 اگست، 2023
🎖
اپنا کردار
"ہم اپنا کردار اپنے منتخب کردہ نمایئندہ کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں" جیسا ہمارا کردار ویسامنتخب کردہ نمائیندہ
👫
"سیاسی کارکن سمجھیں "
کہ پارٹیاں ان کیلیے بھی سوچتی اور کچھ دیتی
یا بس قربانی ہی لیتی ہیں اور لیڈر موجیں کرتے ہیں
#عباس_ملک
🐉
" بحث اور سانپ والی لڈو میں کیا فرق ہے "
کیا پتہ کسی کی بے تکی بات آپکو خاموش اور شرمندہ کر دے
#عباس_ملک
📯🤔
یہ جو سیاستدان ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔۔۔
وہ کھری کھری ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں جی۔۔۔۔۔۔۔
یہ کھوٹی کھوٹی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
کھرا سودا اب سیاست کے بازار میں نہیں بکتا ...۔۔۔۔۔۔
سبزی منڈی میں ہاکر اور پھڑیے ایک ہی بولی اپنے اپنے انداز میں ہانک رہے ہوتے ہیں ،،،،،،،
مقصد سودا بیچنا ہوتا ہے ۔۔۔۔
ناکہ گاہک کی طلب و ضرورت پوری کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سمجھ آئی یا اگلی بھی پٹی آئی ۔۔۔۔۔
#عباس_ملک #جہوریت #زہریلے_سیاستدان #عام_آدمی #پاکستان_کی_آواز
📯
انقلاب۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور ۔۔۔خوشاب کے رستے میں دریا ، پہاڑ اور بہت بڑی بڑی کھائیاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو سیاسی خوشاب جانے سے ڈرتے ہیں ۔۔۔
وہ انقلاب کی پر خطر راہ کے مسافر نہیں ہو سکتے ۔۔۔
وہ انقلاب کا دعوی میں جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔
#عباس_ملک
بدھ، 2 اگست، 2023
نیک اور بد لوگ
جتنے لوگ رائیونڈ اجتماع میں جمع ہوتے ہیں اگر یہی لوگ اپنی سماجی اخلاقی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کریں تو پاکستان جنت نظیر بن جائے۔
یہ جتنے محرم کے جلوسوں میں سینہ کوبی کرنے اہلبیت کی محبت میں روتے، 1400 سال پہلے ہوئی دہشت گردی پر احتجاج کرنے نکلے ہوتے ہیں یہ اہلبیت کا درس اپنے اعمال و افکار سے پھیلانے لگ جائیں تو سماج میں کوئی دہشت گرد پیدا نہ ہو۔
جتنے لوگ ہر سال حج پر جاتے ہیں،اگر وہی سدھر جائیں تو سماج سدھر جائے۔
جس قدر امام اور خطیب ہیں اگر وہی اپنے قول و فعل کا تضاد ختم کر لیں تو پاکستان ریاستِ مدینہ بن جائے۔
جو دو لاکھ حفاظ اور لاکھوں علماء ہر سال معاشرے کی مین اسٹریم میں داخل ہوتے ہیں وہی صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں تو معاشرے کا سماجی سرطان ختم ہو جائے۔
مگر ان سارے نیک لوگوں کا بون میرو سماج کے بون میرو سے میچ نہیں کرتا لہٰذا معاشرے کا کینسر بھی ختم نہیں ہو رہا۔ ان سارے نیک لوگوں کا نیکی کا تصور ہی مسخ شدہ ہے، سماج بدکار لوگوں کی بدکاری سے کم اور ان بانجھ نیک لوگوں کی وجہ سے زیادہ خراب ہے کیونکہ ان نیک لوگوں کی نیکی سماج کے لئے کاؤنٹر پروڈکٹیو ہے، انہوں نے بس نمازوں کو ہی نیکی سمجھ رکھا ہے۔حج کو ہی نیکی سمجھ رکھا ہے، ماتم کو ہی نیکی سمجھ رکھا ہے، حفظ کو ہی نیکی سمجھ رکھا ہے، اسی نیکی نے ان کو جھوٹ بولنے ، وعدہ خلافی کرنے، دوسروں کی زمین غصب کرنے، مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے، والدین کے اور اولاد و ازواج کے حقوق ادا نہ کرنے پر جری کر رکھا ہے۔
ان کا پڑوسی نہ امن میں ہے نہ سکون میں ہے۔ ان کو پیشاب کا قطرہ نکلنے کی تو فکر ہے مگر گلی کو صاف رکھنے کی کوئی فکر نہیں۔ یہ روزانہ بالٹیاں بھرکر کچرا باہر پھینکتے ہیں اور ان کے ضمیر میں کوئی خلش نہیں ہوتی کیونکہ یہ سب نیک ہیں۔ ان میں سے اکثر والدین کے نافرمان، بیویوں اور اولاد کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور اپنی یتیم بھتیجے بھتیجیوں کی زمین دبا لینے والے ہیں۔
ان کو دور فلسطین، برما اور روانڈا کے مسلمانوں کی فکر ہے مگر اپنے ہی گاؤں میں اپنی یتیم بھتیجی کی کوئی فکر نہیں کہ وہ کہاں سے کھا رہی ہے اور کیسے گذر بسر کر رہی ہے۔ الٹا مشترکہ زمین میں سے اس یتیم کا حصہ بھی نہیں دیتے مگر سال کا عمرہ و حج بھی نہیں چھوڑتے۔ آدھے نیک لوگ پورے برے انسان سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جیسے منافق ک۔افر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور زیادہ سزا کا حقدار ہے۔
امیر کے مال میں غریب رشتے داروں اور غریب محلے داروں کا حصہ رکھا گیا ہے جو ادا نہیں کرے گا تو لازم محاسبہ ہوگا اگرچہ درجنوں حج کر رکھے ہوں ہر نفلی حج اور عمرے پر حشر میں جوتے مارے جائیں گے کہ غریب رشتےداروں کا حق ادا کرنے کی بجائے اس کا ٹکٹ لے کر مجھے غصہ دلانے کے لئے حطیم میں سینہ رگڑنے مکہ آ گئے تھے؟ پڑوس میں غریب بچی کے ہاتھ پیلے کرنے کو ترس رہا تھا اور تو اس کی مدد کرنے کی بجائے حجر اسود چومنے مکے آ گیا ؟۔ تیرے معاشرے میں فساد پھیلا تھا اور تو وہاں میدان عمل میں اترنے کی بجائے یہاں قرآن پڑھنے آ گیا تھا ؟۔ تیرے ہمسائے میں ،تیری گلی میں، تیرے شہر میں کوئی فاقہ کشی پر مجبور تھا اور تو ادھر قربانی کا دنبہ حلال کرنے پہنچا ہوا تھا ؟
اور ہمارے منبر، ہمارے جمعہ المبارک کے خطبے، وہ کیا ہیں ؟ جمعہ کا مقصد کیا تھا ؟ یہی کہ ہر ساتویں دن مسلمان جمع ہوں اور ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہنے کے ساتھ ان کو درپیش مسائل کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق حل کرنا۔ منبر سے سماجیات ، رہن سہن اور بنیادی مینرز کی تبلیغ کرنا اور حقوق العباد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنا کہ جس کا ذکر عبادات کے ذکر سے کئی گنا زیادہ کلام مجید میں آیا ہے اور جس پر اللہ نے پکڑ سخت رکھی۔ اور خطبوں میں ہوتا کیا ہے ؟ وہی داستان ، وہی قصے جو بچپن سے سنتے آئے، جو ازبر ہو چکے یا کوئی بھلے شاہ و اقبال سنا دے گا۔ یا پھر کسی مسلک پر بدعت و ک-فر کے فتوے ، یا کسی کلمہ گو گروہ پر نکتہ چینی، یا ک۔فار کو بد دعائیں، وقت پورا، نماز پڑھیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔
اگر یہ نمازیں، روزے، حج،عمرے، ماتمی جلوس، مجالس، میلاد محافل، تبلیغی اجتماعات، دعوت کانفرنسیں، لنگر، سبیلیں، وغیرہ وغیرہ آپ کو انسان نہیں بنا رہے یا آپ کو برائی سے نہیں روک رہے یا آپ کے اندر کوئی مثبت تبدیلی نہیں پیدا کر رہے تو لکھ لو کہ یہ سب اعمال آپ کے منہ پر ویسے ہی مارے جائیں گے جیسے خدا کہتا ہے کہ اگر نماز تمہیں راہ راست پر نہیں لا رہی اور برے کام سے نہیں روک رہی تو وہ نماز تمہارے منہ پر دے ماری جاتی ہے۔
مسئلہ برے لوگوں سے زیادہ مسئلہ نیک لوگ ہیں جن کا تصورِ نیکی محدود اور مسخ شدہ ہے۔
نشرِ مُکرر
تعلیمی ادارے یا کوٹھے چکلے
سکیس اور جنسی زیادتی میں بڑا فرق ہے
"ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول"
یونیورسٹی میں تمام طلباء لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب میچور ہوتے ہیں... اچھے برے اور فائدے نقصان کا فرق بخوبی جانتے ہیں. اس لیول پر کوئی ایک دوسرے کو تنگ نہیں کرتا. یہاں جو بھی کپل یعنی کے جوڑا بنتا ہے وہ دونوں کی باہمی رضامندی سے بنتا ہے، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار کر دو تین جوس کارنر پر جوس پینے اور کچھ ہوٹلوں پر کھانا کھانے کے بعد ہی ایک دوسرے کو اپنا سب کچھ سونپ دیتے ہیں. یہاں آغاز ہمیشہ دوستی کی آڑ میں ہوتا ہے کیونکہ یہاں دونوں ہی سمجھتے ہیں کہ دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ دو مخالف جنس اچھے دوست بھی ہوں تو بھی زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں، یہاں پر کچھ لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے صاف رشتہ رکھ کر آگے چلتے ہیں مگر یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے زیادہ تر جوڑے جسمانی تعلقات میں مبتلا ہو جاتے ہیں
یونیورسٹی لیول پر کوئی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا یہاں سب کچھ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، آپ لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، کراچی، ملتان اور بہاولپور جیسے بڑے بڑے شہروں کے ریسٹورنٹ، گیسٹ ہاوس اور ہوٹلوں کا اگر رات کے کسی پہر وزٹ کریں تو معلوم ہوگا یہاں پر موجود نوجوان جوڑوں میں سے اسی فیصد سے بھی زیادہ کا تعلق شہر کی مختلف یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں سے ہوگا... آپ مختلف پیزا شاپ، جوس کارنر کا وزٹ کریں تو آپ کو یہاں یونیورسٹی کی کلاسز بنک کر کے ڈیٹ پر آنے والے نوجوان جوڑوں کا ایک جم غفیر ملے گا. اور پچاس روپے والا جوس کا گلاس آپکو 200 روپے کا ملتا ہے, تیس منٹ تک کوئی پوچھنے نہیں آتا, تیس منٹ بعد آپکو ایک اور آرڈر کرنا پڑتا ہے... یہاں اندر کرسیوں کی جگہ صوفے لگے ہوتے ہیں یعنی کے پورا ماحول بنا ہوتا ہے,آپ جو مرضی چاہیں کر سکتے ہیں تو یہ کہنا کہ یونیورسٹی لیول پر لڑکیوں کو جنسی زیادتی یا درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے سراسر غلط ہے، یہاں نوجوان کپل شادی شدہ جوڑوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور پوری کلاس بلکہ پورے ڈیپارٹمنٹ کو خبر ہوتی ہے کہ کونسے والی کس کی ہے اور کونسے والا کس کا ہے؟؟؟
آپ ان بڑے شہروں میں اگر شاپنگ مالز کا وزٹ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یا کمر اور کاندھے پر ہاتھ رکھ کر خریداری کرنے نکلے ہوں گے, جن میں زیادہ تر کا تعلق اس شہر کی مختلف یونیورسٹیوں سے ہوگا
پارک میں جائیں تو بہت ساری تتلیاں کچھ پروانوں کے ساتھ چپک کر یا یہ کہہ لیں کہ ان کی گود میں بیٹھی ملیں گی، آپ یونیورسٹیوں کا اگر وزٹ کریں تو آپکو رات کو گرلز ہاسٹل اور بوائز ہاسٹل سے بہت سارے لڑکے اور لڑکیاں غیر حاضر ملیں گے ان سب کے گھر پر کال کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ تو یونیورسٹی میں ہیں. آپ مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوس کا وزٹ کریں تو آپکو ان میں سے زیادہ تر یہاں پر ملیں گے اور جن لڑکوں یا لڑکیوں کا تعلق اسی شہر سے ہے تو بھی پریشانی کی بات نہیں ہے. آپکو شہر میں ایسے بہت سارے ہوٹل ملیں گے جو صبح 8 بجے سے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کیلئے نوجوان جوڑوں کو کمرے کرایہ پر دیتے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے ہوٹل بنے ہی اسی کام کیلئے ہیں
اور سونے پر سہاگہ کہ ان سارے ہوٹلوں کو بڑے بڑے پولیس افسران، بیورو کریٹ یا پھر سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے، ہر ہفتے یا مہینے کی بنیاد پر بھاری رقوم کی صورت میں بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سب کام آسانی سے ہو رہا ہے. اگر کبھی میڈیا کا دباؤ یا پھر کوئی بڑی مکبری ہو بھی تو ان ہوٹل والوں کو پہلے سے ہی آگاہ کر دیا جاتا ہے.
پنجاب یونیورسٹی میں اپنے دوست کو ملنے گیا تو اپنی آنکھوں سے لڑکیوں کو آگے بیٹھ کر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھ چکا ہوں اور لڑکے پیچھے بیٹھ کر ان تتلیوں کو موٹر سائیکل چلانا سکھا رہے ہوتے ہیں. پنجاب یونیورسٹی اور خاص طور پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں آپکو لڑکیاں چھوٹی چھوٹی شرٹس اور بہت باریک لباس پہنے اور چھوٹے چھوٹے ٹراوزر پہنے نظر آئیں گی.. دوپٹہ برائے نام ہوتا ہے یا پھر ہوتا ہی نہیں.. اتنے باریک باریک لباس ہوتے ہیں کہ جسم سارے کا سارا آویزاں ہو رہا ہوتا ہے اور سفید کپڑوں میں سیاہ رنگ صاف جھلک رہے ہوتے ہیں. میں نے اپنی ان آنکھوں سے بہت سی خواتین کو حجاب میں یونیورسٹی آتے دیکھا ہے اور پھر ایک طرف ٹھہر کر یہ حجاب اپنے پرس میں ڈال کر پرس سے ایک چھوٹا سا باریک دوپٹہ گلے میں ڈال کر اپنی اپنی کلاسز میں جاتے دیکھا ہے. پھر جب چھٹی کے وقت باپ یا بھائی کے آنے کا وقت ہوتا ہے تو پھر سے وہی حجاب پرس سے نکال کر پہن لیا جاتا ہے.
مجھے آج تک سمجھ نہیں لگی کہ یہ tights اور اوپر سے چھوٹی چھوٹی باریک شرٹس پہننے کا آخر مقصد کیا ہوتا ہے، آ بیل مجھے مار؟ اتنی چھوٹی چھوٹی سی شرٹس پہننا اور پھر چلتے ہوئے بار بار پیچھے سے اپنی شرٹس کو درست کرنا... کیسا عمل ہے؟ کیا ضرورت ہے. یا تو پہنیں نہ, پہن لیا تو بس پھر ٹھیک ہے. کیونکہ آپ کا جسم آپ کی مرضی. پھر مرد کیوں نہ کہے کہ میری آنکھ میری مرضی؟ لیکن یہ سب فیشن ہے. یہاں پر فقرے کسنا جرم نہیں کیونکہ کھلم کھلا دعوت دی جاتی ہے فقرے کسنے کی. میوزک کنسرٹ، کلچرل فیسٹیول، اور اینول ڈنر کے نام پر ہونے والے رقص، مجرے کی محفلوں سے کم نہیں. میوزک کنسرٹ پر جسم کے ساتھ جسم لگے ہوتے ہیں اور ناچ گانے عروج پر کندھے سے کندھے جڑے ہوتے ہیں. منشیات کا سب سے زیادہ استعمال بھی یونیورسٹی کے طلباء ہی کرتے ہیں. جن منشیات کا کبھی آپ نے نام تک نہیں سنا ہوگا وہ منشیات یونیورسٹی لیول پر آپ کو نظر آتی ہیں. لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ان منشیات کی عادی ہیں اور یہ بھی کسی فیشن کی طرح پروان چڑھ رہا ہے. لڑکیوں کے ہاسٹل میں یہ منشیات انتظامیہ کے زریع سے ہی فروخت کی جاتی ہیں اور بہت سے گروہ اپنے سہولت کار ان طالبات میں سے ہی چنتے ہیں. پہلے نشے کا عادی بنایا جاتا ہے اور پھر جسم فروشی کے مقاصد کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے. دونوں ایک دوسرے کو غلط کہہ رہے ہیں خواتین کے مطابق مرد حضرات اپنی نظروں کی حفاظت کریں اور مردوں کے مطابق خواتین اپنے جسم کی حفاظت کریں... مگر دونوں میں سے کوئی بھی اپنی اصلاح کرنے کیلئے تیار نہیں کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے. یہ ہسپتالوں اور کچرے کے ڈھیر میں ملنے والے نومولود بچے طوائف کے نہیں بلکہ ان تعلیم یافتہ افراد کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری آپس میں انڈرسٹینڈنگ تھی. ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہونے والے ابھورشن اسی انڈرسٹینڈنگ کے نتائج ہیں. نان پریگننسی کی فروخت ہونے والی ادویات کے خریدار زیادہ تر یہی انڈرسٹینڈنگ والے جوڑے ہیں. لیکن اگر یہاں کوئی سچ لکھے یا بولے تو وہ چھوٹی سوچ کا مالک ہے وہ تنگ نظر ہے وہ دیہاتی ہے. پھر میں کیوں نہ کہوں کہ ہماری یونیورسٹیاں کوٹھے اور چکلے ہیں. اکثر تعلیمی ادارے جسموں کی تجارت کی منڈیاں ہیں. یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی جسمانی تعلقات اور زنا کو فروغ دے کر والدین کی عزتوں کے جنازے نکال رہے ہیں. یونیورسٹی کا مطلب "مادرِ علمی ہے" یہ کیسی ماں ہے جو اپنی بچیوں کے سر سے دوپٹہ اور جسم سے لباس اتارنے کی تربیت کو پروان چڑھا رہی ہے. یہ کیسی ماں ہے جو اپنے بیٹوں کو بے حیائی اور زنا کی تعلیم دے رہی ہے؟ بلکہ یہ یونیورسٹیاں شاید طوائف کے کوٹھوں سے بھی زیادہ گری ہوئی جگہ ہیں کیونکہ ایک طوائف اپنی مجبوری کے تحت اپنا جسم فروخت کرتی ہے اور اس کے پاس آنے والے گاہک پیسے دے کر اس کا جسم خریدتے ہیں مگر ہماری یونیورسٹیاں وہ کوٹھے اور وہ اڈے ہیں جہاں عورت اپنا جسم اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص کو خوشی خوشی پیش کرتی ہے اور یہاں جسم لینے والا کوئی خریدار نہیں ہے وہ ایسا گاہک ہے جسے مفت میں شراب اور شباب مل رہی ہوتی ہے اور جب اپنا جسم اپنی مرضی سے پیش کیا جائے اور لینے والا عورت کی مرضی سے اس کا جسم لے تو پھر نہ تو عورت اسے جنسی زیادتی یا درندگی کا نام دیتی ہے اور نہ ہی مرد اسے جنسی زیادتی اور درندگی کا نام دیتا ہے یہاں اس فیشن کو "انڈرسٹینڈنگ" کا نام دیا جاتا ہے
اور اس سارے فسادات کی جڑ یہ Co-education ہے ہمارا دین اسی وجہ سے اس نظام تعلیم کی مخالفت کرتا ہے یہ نظام تعلیم ہماری نسلوں کو اُجاڑ رہا ہے تباہ کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کے جوان پڑھے لکھے جاہل کے لقب سے نوازے جا رہے ہیں. یہ یونیورسٹیاں تعلیم، علم، تربیت، تہزیب ،ادب، شعور کچھ بھی نہیں دے رہیں بلکہ جو تھوڑا بہت ان سب کا تناسب موجود ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے
ہماری یونیورسٹیاں فقط کاغذ کے ٹکڑے دے رہی ہیں.. غلامی کی سوچ اور سرکاری نوکری کے خواب عنایت کر رہی ہیں لالچ اور حسد عنایت کر رہی ہیں ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا
انفرادی طور پر اصلاح اور کوشش کرنی ہوگی تب جا کر اجتماعی طور پر چیزیں درست ہو سکتی ہیں، تلخ لکھنے پر معذرت خواہ ہوں مگر جو بھی لکھا سچ لکھا ہے... اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے 🙏 آمین ثم آمین 💗




