اتوار، 9 ستمبر، 2012

Baluchistan issue difference between


         بلوچستان ایشو پر نقطہ نظر کا اختلاف                              عباس ملک
بلوچستان ایشو کو جس طریقے سے اچھالا جا راہا ہے اس سے عمومی طور پر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران اس ایشو کو حل کرنے کی بجائے اس کو بلوچوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے نعرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ کبھی یہ سندھ کارڈ اور اب یہ بلوچ کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ سیاست کو کارڈز کی بازی بنا دینے سے صرف بازی جیت لینے کی تمنا تو بر آ سکتی ہے لیکن اصل  مسائل اپنی جگہ پر جون کے توں ہی رہیں گے۔جس کے ہاتھ میں مضبوط پتے ہوں وہ دوسر٤ے کو بڑھ چڑھ کر بلیک میل کرے اور دھونس میں رکھ کر اپنا مطلب نکالے ۔بلوچستان کی سر زمین پر بازی جیتنے کی تمنا کے پیچھے کیا عوامل ہو سکتے ہیں وہ بھی ہر گز عوامی مفادات سے میل نہیں رکتھے ۔ یہ اختیار اور اقتدار اور مفادات کی بازی ہے ۔اس کا تعلق بلوچستان کی ترقی اور بلوچ کی فلاح سے ہرگز نہیں جوڑا جا سکتا ۔ بگٹی صاحب کو قتل کیا گیا یا بلوچستان مئیں عام بلوچوں اور دیگر پاکستانی قومیتوں کو لڑایا گیا اس میں بولچوں کی فلاح کا تعلق  لفافہ مفکر ہی جوڑ سکتا ہیں ۔مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگا صاف نظر آتا ہے ۔ پٹھان بلوچ اور شیعہ بلوچ کو لڑانے کی کوشش میں بلوچستان کی ترقی کا راز کیسے مخفی ہے ؟ قوم پرستی کی آڑ میں جلائو گھیرائو ،ہڑتالوں اور دہشت پھیلانے میں معاشرتی ترقی کا راز کیسے مخفی ہو سکتا ہے ؟پاکستان کا پرچم اتار کر اسے جلا کر قائد اعظم کو گالی دے کر بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی تمنا زخموں پر نمک پاشی کے عین  مترادف اور بلوچ کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی آڑ میں  عین دشمنی ہے ۔ بلوچستان کے رئوسا ،نواب اور سردار اپنے مفادات کی خاطر بلوچستن کارڈ کو استعمال کرتے آئے اور کر رہے ہیں ۔انہوں نے کبھی عام بلوچ کیلئے ترقی اور فلاح کی کوشش کی نہیں تو پھر بلوچ محروم کیوں نہ رہتا ۔اس میں قائد اعظم یا پاکستان اور پنجابی اور پٹھان کا کیا قصور ہے ۔یہ سردار رئیس نواب اپنے محلات سے اپنے حلقہ پر قیام پاکستان سے لے کر آج تک بادشاہت کرتے آ رہے ہیں ۔ یہ ان کی ریاستیں آج بھی قانون اور آئین کی بجائے ان کے فرامین پر چلائی جا رہی ہیں ۔ یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر سوئی گیس بلوچستان کو فراہم نہیں کی گئی اور عام بلوچ اس سے مستفید نہیں ہوا تو اس میں قائد اعظم پاکستان کا کیا قصور ہے ۔بگٹی صاحبان سوئی گیس کی رائلٹی وصول نہیں کرتے ۔اور کای اب بھی وصول نہیں کر رہے ۔ اس کو اپنے عوام کیلئے کیوں وقف نہیں کیا ۔ یہ شرط کیوں نہیں رکھی گئی کہ یہ پہلے بلوچستان کو سپلائی کی جائے اس کے بعد اس کو دیگر صوبوں میں لے جایا جائے ۔ نواب صاحب نے قائد اعظم کو خوش آمدید کہا تھا اور ان کا ہاتھ تھاما لیکن لیکن ان کی نگاہیں اور دل اقوام غیر کی جانب سے ہمدردی کیلئے کیوں وا ہوئے ۔ ان کے وارث آج کیوں تقسیم ہیں ۔ کیا یہ مفادات کی عکاسی اور محلاتی سازشوں کی داستان کسی سی مخفی ہے ۔ انہوں نے اپنوں میں عدم مساوات اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو کیا وہ بلوچوں کو ان کے پورے حقوق ادا کر گئے ۔ مشرف کو ان کا مجرم قرار دینا چاہیے یا پھر ان بلوچ سرداروں کو جو اپنے دور حکومت میں اپنے بڑے بھائی کی حفاظت کرنے سے قاصر رہے ۔ اپنے اقتدار کے دام کی خاطر اس اپریشن کی منظوری دی اور اس کی نگرانی کی ۔ اپنے زیر نگرانی اس مصیبت سے جان چھڑائی ۔ پاستان سے علیحدگی کی بات کرنے والے بلوچ راہنمائوں سے میرا یہ سوال ہے کہ اگر ان کے اجداد اگر یہ ستم نہ ڈھاتے تو آج شاید وہ بھی پاکستان کی پشت میں یہ خنجر گھونپنے کیلئے موقع نہ پاتے ۔ پشت در پشت حکمرانی کے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ شاید پاکستان کا پرچم ہی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے سائے سے نجات حاصل کی جائے ۔ اگر دکھائی نہیں دیتا تو اس سائے سے محروم برصغیر کے دیگر علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار کو پیش نظر رکھ کر اس سائے سے عام بلوچ کو محروم کرنے کی تمنا سے باز آیا جائے ۔ دیار غیر میں جلاوطنی کی آڑ میں اس ومن کے خلاف مورچہ زن ہو کر بلوچستان کو ترقی نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی بندوق سے اپنے دیگر بھائیوں کا خون بہانے سے ترقی کا رستہ نکلتا ہے ۔ اس کیلئے اپنے مفادات اور خواہشات کو تیاگ دینا پڑتا ہے ۔ بادشاہت ذہن سے نکال کر خدمت کا تصور اپنانا پڑتا ہے ۔ یہ بادشاہوں کی تاریخ میں کم ہی ہوا کہ کسی نے بادشاہت کو تیاگ دے کر فقیری کی راہ اپنئی ہو ۔ بلوچوں کے حقوق کا نعرہ شخصی مفادات اور انتقام کی آڑ بنا دیا گیا ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں