جمعرات، 20 جون، 2013

مہاراجارنجیت سنگھ،،،، تحریرو تحقیق:رحمان محمود خان
جمعرات, 20 جون 2013 10:06

تاریخ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ کتنے بھیانک اورسفّاک لوگوں نے اپنے اندازِحکمرانی اور اپنی رعایامیں مقتدر اقلیتوں کو تہہ وتیغ کِیا۔غیر جانبدارانہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی حقائق،نصابی کتب کے موادکے برعکس ہیں۔مذہب کو پُرامن مقاصد کے حصول کی بجائے فتنہ و فساد کی جڑ بنادِیا گیا۔مسلمانوں،عیسائیوں،سکھوں،ہندوو ں حتیٰ کہ اَب بدھ مت کے پیروکاروں نے ایسی ایسی لرزہ خیز داستانیں تاریخ کے سینے پرکُندہ کیں ہیں،جِن کو صِرف پڑھ کر دِل دہل جاتے ہیں۔اسی طرح کا ایک سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والاظلم وجور میں لاثانی سکھ مہاراجا رنجیت سنگھ رواں ماہ 27جون1839ع کو انتقال کر گیا۔جس کی پیدایش پر سکھ مذہب کے تحت رسومات ادا کی گئیں اوراُس کے لیے نیک،صالح اورصلح جُوہونے کی دعائیں ومنتیں مانگی گئیں۔ تاریخ یہ حقیقت اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے کہ مہاراجارنجیت سنگھ( عرف کانا)کے عہدمیں پنجاب کے مسلمانوں کی مذہبی زندگی کو تنگ کردیا گیا تھا۔

پرھیے۔آج کا فیچر۔ اس لنک پر۔۔
http://www.pakistanupdates.com.pk/ur/index.php?option=com_content&view=article&id=23762%3Apakistanupdates&catid=15%3A2011-07-31-09-34-38&Itemid=14

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں