جمعرات، 20 جون، 2013

پرسوں صبع گرمی میں لائیبریری چلا گیا تھا وہاں کُچھ ہی دیر بیٹھا کہ لائیٹ چلی گئی مزید گرمی نےآ لیا پسینہ نکل رہا تھا مگر بیٹھا کتابوں کی ورق گردانی کرتا رہا تین گھنٹے گرمی میں گزارے تو پسینے سے شرابور ہو گیا باہر نکلا تو گرم ہوا بھی ٹھنڈی ٹھنڈی لگی اور اسی گرم ٹھنڈے سے زکام اور پھر بخار ہو گیا اب کل سے بستر پر دراز ہوں اور ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا ہے کبھی کُچھ لکھتا ہوں کبھی پڑھتا ہوں اور کبھی دوائی کھاتا ہوں آدمی بھی کیسی عجیب شے ہے جب وقت ہوتا ہے تو اسے ٹھیک طور پر استعمال نہیںکرتا اور جب کہیں پھنس جاتا ہے تو سارےکام اکھٹے کرنے لگتاہے کوئی چار افسانے جو پچھلے تین ماہ سے آدھے آدھے لکھے رکھے ہیں اب ان سب کو پڑھا تو دل کر رہا ہے کہ سبھی فوراً مکمل کر دوں مگر جسم ساتھ نہیں دیتا لگتا ہے کل تک جب بخار اترے گا تو یہ افسانے مکمل کرنے والا بخار بھی اتر جائے گا اور برق رفتاری سے بہتا وقت مُجھے اس تنہائی سے نکال کر پھر کسی مضروفیت کی منجدھار میں لے جا پھینکے گا اور میں پھر خود ایک مرتبہ کھو دوں گا بھلا ہو اس بخار کا کے اس نے مُجھ سے میرے لیے کچھ وقت تو نکلوا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں