ہفتہ، 2 اگست، 2014

آزادی مارچ یا اقدام غلامی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کالم عباس ملک

آزادی مارچ یا اقدام غلامی      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کالم      عباس ملک 
عالمی حالات کے ساتھ ملکی حالات کے پیش نظر ملک اور معاشرے میں امن استحکام کے ساتھ تسلسل کی ضروت ہے ۔۔۔سیاسی اکابرین کو 
اپنے مفادات یا دوسرے الفاظ میں اقتدار کے منڈل پر قبضہ کی جنگ میں اتنی جلدی ہے کہ وہ سامنے کی حقیقت کو دیکھ نہیں پا رہے ۔
علامہ طاہر القادی کو کیا پڑی کہ وہ کینڈا سے اٹھ کر معاشرے میں اتھل پتھل مچانے پر تلے ہیں ۔ کیا منہاج القرآن کی آرگنائزیشن اس مثالی معاشرے کی عکاس ہے جس کی ضمانت پروفیسر طاہر القادری دے رہے ہیں ۔ منہاج سے فارغ التحصل تمام بچے اور بچیاں اگر صاحب روزگار ہو چکے ہوتے تو شاید معاشے میں بیروزگاری کا تناسب اتنا نہ ہوتا ۔۔۔۔تمام تر اختیارات اور وسائل کے باوجود ابھی تک منہاج القرآن چندے اور ہدیہ و عطیات کا ہی طالب ہے ۔۔۔۔۔۔۔جو یہ ثابت کرن کیلئے کافی ہے کہ پروفیسر صاحب پاکستان کو بھی عطیات و صدقات پر چلانے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں تو پھر ان میں اور دیگر میں کیا فرق ۔۔۔
عمران خان خیبر پختونخواہ میں اقتدار کے باوجود سال میں کوئی خاص کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو وہ پاکستان کو کیسے عوج ثریا پر لے جائیں گے ۔۔۔اس موقع پر جب پاکستان عالمی طور پر اور معاشرتی جلائو گھیرائو کا شکار ہے اس موقع پر حصول اقتدار کیلئے مزید بدامنی پیدا کرنا قومی اور معاشرتی  طور پر ہرگز بھی خدمت قرار نہیں دی جا سکتی ۔
اس بات کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں کہ موجود حکمران کو مغلیہ انداز میں اقتدار کے سنگھاسن کو استعمال کر رہے ہیں کی تائید کرنا مقصود ہے ۔ سینٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں اگر صرف مراعات اور ٹی اے ڈی بنانے کی فیکٹریاں ہیں تو پھر بہتر ہو گا کہ یہ نہ ہوں ۔تمام سیاسی اکابرین عوامی مسائل کے حل کیلئے قانون سازی کرنے سے قاصر ہیں ۔ بجائے اس کے وہ جس کام کیلئے منتخب کیے گئے یا جس کیلئے ان کو عزت دی گئی وہ معاشرے میں لسانی گروہی اور مفادات کی سیاست کے سرغنہ بنے ہوئے ہیں ۔
معاشرے میں اتحاد اور یکجہتی کے علم کی بجائے ہر طرف مفادات کے ان ہوس پرست سواروں کے کی گرد سے ملی یکجہتی کی دھول اڑ رہی ہے ۔ سیست کے اجارہ دار کسی طور بھی کسی اور کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ وہ ملک یا قومی مسائل کے حل کیلئے اگے آئے ۔ ایسے میں ملک کی جغرافیائی سرحدوں سے لے کر ملی و قومی یکجہتی کی بلیک میلنگ سے عوام کو ڈرا کر ان سے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے جاتے ہیں ۔ محب الوطن پاکستانی عوام مذہب و ملت اور قوم کے نام پر نصف صدی سے اسی طرح بلیک میل ہو کر ان سیاسی خانوادوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں ۔ نہ تو ان خانوادوں نے ملی طور پر پاکستان اور پاکستانی قوم کو اقوام عالم میں کوئی مقام دلوانے کی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی معاشرتی ترقی میں صائب کردار ادا کر کے استحاکام پاکستان کیلئے کردار ادا کیا ۔
یہ ان ہی کی بچھائی ہوئی بساط ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی ہمیشہ سے ایک کونے پر ڈرے سہمے کھڑے نظر آتے ہیں ۔ انسانی ترقی کے شوق اور لگن کا سبب ہے کہ پاکستان صنعتی یا کاروباری اور زراعت میں کچھ نہ کچھ نتائج دے رہا ہے ۔ اس میں کسی طرح بھی ان عوامی خدمت گاری کے دعویداروں کا کوئی کردار نہیں ۔
آزادی مارچ کس سے دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کیا پی ٹی آئی کے اکابرین وہی چہرے اور وہی سوچ نہیں جن کا ماضی پیپلز پارٹی مسلم لیگ یا اسی طرح کے سیاسی پلیٹ فارم سے جڑا ہے ۔ کیا یہ ایوب خان ضیاالحق اور مشرف کے مارشل لائوں کی پیداوار اور اس کے ہمراہی اور معاون نہیں رہہے ۔ کیا یہ ان خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتے جو نصف صدی سے سیاست کے نام پر عوام کو غلامی در غلامی کے زنجیر میں باندھے چلے آ رہے ہیں ۔
مسلم لیگ کے حکمران اگر ذاتیات سے باہر آ کر پارٹی کو مغلیہ انداز کی بجائے جمہوری انداز میں چالائیں اور مسلم لیگ پر خاندان کی اجارہ داری ختم کر دیں تو اس کے نتائج ان کیلئے بہتر ہو جائیں گے۔ پی ٹی آئی اگر سیسی طور پر خدمت کرنا چاہتی ہے تو آئین اور قانون میں پائے جانے والے ابہام دور کر کے اس جمہوری آئین بنانے کی طرف کوشش کرے ۔ اس ملک کو جب جمہوری آئین مل جائے گا تو جمہوریت بھی پیدا ہو جائے گی اور جمہور کی خدمت کی طرف قدم بھی بڑ ھنا شروع ہو جائیں گے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں