سیاستدانوں کے حصول اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بیانات آ رہے ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ سیاستدانوں میں اقتدار کی دوڑ اور حصول کے حوالے سے انتہائی مایوس کن رہی ہے ۔ اقتدار کے حصول کیلیے ایک دوسرے کو غدار چور ڈاکو قاتل سے لیکر جھوٹا زانی شرابی دغا باز اور دنیا کا مکروہ ترین انسان تک بنا دینے والے اقتدار کی بندر بانٹ کیلیے اسی سے اصولی جمہوری اتحاد بنا لیتے ہیں ۔ یہ جمہوریت کا نقاب پہن کر ملک کے اہم اداروں کو زیردست لانے اور اجارہ داری اور من مانی کی راہ میں حائل آخری چٹان ہٹانے کے مترادف کوشش قرار دی جا سکتی ہے ۔ سیاست کے اس کھیل میں عدلیہ کو فتح کیا جا چکا ہے ۔ اب عادل سیاستدانوں کے محتاج ہیں ورنہ کون انھیں منتخب کرے گا تو وہ عدلیہ میں جگہ بنانے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے ۔ ملک کا مقتدر ترین ادارہ سیاسی پشت پناہی کرنے پر اقربا کا احترام کرنے اور انہیں آشیر باد دینے پر مجبور ہے ۔اسی قبیل میں پولیس جیسا عجم ترین سماجی خدمت کا ادارہ بھی تباہ کیا گیا ۔ ہر سطح پر سیاسی بھرتیو ں اور سیاسی مقصد کیلیے استعمال نے اس ادارہ کو اصلی کردار ادا کرنے سے دور کر دیا ۔ ھر ادارہ میں سیاسی مدآخلت سے اداروں میں میرٹ کو روندا گیا وہیں اداروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کا زینہ بھی بنایا گیا ۔یہ ان ہی سیاستدانوں کا کیا ہے کہ ملک میں نہ امن ہے نہ عدل ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی قدر باقی ہے ۔ ہر جرم کے تحفظ کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی ہاتھ دیکھا جا سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ سیاسی مخالفت پر ایک طرف سے مخالفت تو دوسری طرف اے حمایت مل جاتی ہے لیکن اگر آپ سیاسی حلیف نہیں یا کمزور سیاسی ورکر اور ووٹر ہیں تب بھی آپ اعلی سطحی سیاسی آشیر باد کے اہل نہیں ۔ آج ملک میں جتنی بدزبانی اور ایک دوسرے کا گریبان چاک کرنے کی روایات قائم ہیں وہ کس نے قائم کی ہیں ۔ کیا ادارے ہر صوبہ میں معاشرتی ناہمواری کے زمہ دار ہیں ۔ملک تعلیم صحت روزگار عزت وامن کیلیے کیا ادارے ذمہ دار ہیں ۔ سیاسی پلیٹ فارم ہی معاشرتی تقسیم کیلیے استعمال ہوا یا اداروں نے یہ نعرے لگاۓ ۔
تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے ۔ سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور اقتدار کی ریشہ دوانیوں نے فریق دوئم کو موقع فراہم کیا ۔ جب آپ گھر کا درازہ کھول کر صحن میں تماشہ کریں گے تو محلے والے تو ضرور تانکا جھانکی کریں گے اور جو کھڑپینچ ٹائپ ہوں گے وہ صحن میں داخل ہو کر ضرور پوچھیں گئے کیا مسلہ ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ سیاستدانوں کی نااہلی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں ۔ قابل توجہ بات ہے کہ تین سابق وزیر اعظم( دو پیپلز پارٹی ایک مسلم لیگ )جن کے ادوار کرپشن کی کہانیوں سے بھرے ہیں وہ بھی کرپشن اور حکومت کی نااہلی پر تنقید کر رہے ہیں ۔ مجھے کیوں نکالا ان کے سرخیل ہیں۔ موٹروے زیادتی کیس میں ملوث ملزم کے بھی سیاسی تانے بانے ہیں جن کی وجہ سے اس پر ہاتھ ڈالنا مشکل تھا ۔ جرائم کی پشت پناہی میں ایسے کردار سے ہو معاشرے میں جرائم کی شرح بلند ہے ۔ آج پشت پناہی پر معاونت جرم اور جرم میں برابر شراکت ڈالی جاۓ دیکھیں پھر نتیجہ کیا سامنے آتا ہے ۔ یہ بات باعث افسوس ہے کہ عباسی صاحب نے پریس کانفرنس میں عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور تحریک کو متحرک کرنے کیلیے اپنے لیڈر کی گرفتاری کو وفاق کا صوبہ پر حملہ قرار دیا ۔ ایک مسلم لیگی سابق وزیر اعظم وفاق کا نمائندہ اس کا یہ بیانیہ سیاسی مفادات کے حصول کیلیے تھا تو سوچیں کہ اقتدار کے حصول کیلیے ادھر تم ادھر ہم کے وارث کہاں تک جا سکتے ہیں ۔آپ نے قوم پرستی صوبائی عصبیت کو ہوا دی کہ نہیں ۔ اب یہ بیان دی جاۓ گا کہ میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے یا میرا یہ کہنے کا مقصد نہیں تھا ۔ آپ کا جو بھی مقصد تھا آپ کے الفاظ نے صوبائی عصبیت لسانیت اور گروہی اسباب کو تقویت دی ۔چئیرمین صاحب عوام کو حق دلانے چل نکلے ہیں لیکن اپنی ماں کو تو حق دلانے کی بات کبھی بھولے سے بھی ان کے منہ سے نہیں نکلتی ۔ بی بی کے قتل اور ان کے قاتل بے نقاب کرنے کی بات کبھی نہیں کی ۔ میر مرتضیٰ کے قتل پر کبھی بات نہیں کی ۔ ان کی فیملی کو پروٹیکشن دینے اور حق دینے کی بات کبھی نہیں کی ۔ آپ کس بنیاد پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں کیا آپ نے پاکستان کے چاروں صوبوں سے الیکشن جیت رکھا ہے ۔ آپ اسلام آباد سے الیکشن لڑ کر جیت کر کم از کم خود کو وفاق کا نمائندہ تو ثابت کریں ۔ اس کے بعد پھر حقوق کی بات آگے بڑھائیں ۔ لاڑکانہ سے باھر الیکشن لڑیں آپ کو پتہ چلے کہ ایک سیٹ کا چئیرمین کیا حیثیت رکھتا ہے ۔آپ میں اور پنڈی والے شیخ میں کوئی فرق نہیں ۔سیاست میں آبائی سیٹ کا تصور ختم کر کے اب اپنے آبائی علاقہ سے الیکشن ممنوع کیا جاۓ ۔ قومی سیاستدان کہلانے والے کو اپنے صوبہ کی بجاۓ دوسرے صوبہ سے اپنی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا قانون بنایا جاۓ ۔ سیاست کیلیے میدان کھلا رکھنے کی بجاۓ ضروری کیا جاۓ کہ وہ لوکل سطح سے اپنی سیاست کا آغاز کرے ۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ایک خاندان کو وراثت میں دینے کے خلاف قانون سازی کی جاۓ ۔ اگر کوئی نچلی سطح سے اوپر آ کر سربراہ بنتا ہے تو یہ اس کی اہلیت ہے ۔ اداروں میں سیاسی بھرتی ختم اور کسی ادارہ کے فرد کی سیاسی وابستگی کو چارج شیٹ کیا جاۓ ۔ خاص کر پولیس میں اصطلاحات لائی جائیں اور پولیس میں احتساب کا قانون لایا جاۓ ۔معطلی کا سسٹم ختم کیا جاۓ ۔ پولیس کے قوانین بھی آرمی کی طرح کیے جائیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں