بابا رکھا گاؤں کے بس سٹاپ پر ریڑھی سے پکوڑے کھا رھا تھا قریب سے دو معزز شہری گزرے بابا جی کو دیکھا اور کہا کہ اب لگتا ھے کہ آئ ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے بعد عام آدمی کے حالات بہتر ہو جائیں گے. بابا جی نے سالم پکوڑا منہ میں رکھا ہاتھ جھاڑے اور نوجوانوں کی طرف رخ فرما کر دھوتی کا پلّو ضرورت سے بہت زیادہ اوپر اٹھا کر ناک صاف کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئےہر وقت جذبات کے اظہار کے لئے منہ سے بولنا ہی ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی دکھا کر بھی بات سمجھا دینا کافی ہوتا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں