آسودہ زندگی کا مطلب اچھی غذا ، اچھی تعلیم، بہتر علاج، بہتر کپڑا، بہتر ٹرانسپورٹ ہر شخص کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار بہتر رہائش، بہتر تفریحی سہولتیں، یہ وہ چند ضروریات ہیں جو آسودہ زندگی کی مثال کہی جاسکتی ہیں۔ اس قسم کی آسودہ زندگی کا پسماندہ ملکوں میں تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ عوام کو دو سو سال میں کچھ سہولتیں دی گئی ہیں لیکن وقتی آسودہ زندگی یہاں کے عوام کو بھی میسر نہیں کیونکہ کرپشن سمیت مختلف حوالوں سے دولت کا لگ بھگ 80 فیصد حصہ دو فیصد اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جو محنت سے نہیں چالاکی، عیاری، بے ایمانی سے حاصل کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں اس طبقاتی اور بہیمانہ استحصال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جمہوریت کا وہ پرفریب نظام قائم کیا گیا ہے اور اس نظام کا ایسا ماڈل بناکر رکھا گیا ہے جسے ہمارے سیاستدان ترقی کی معراج یا جمہوریت کا حاصل قرار دیتے ہیں۔
پاکستان میں ویلفیئر اسٹیٹ کے نام پر 65 سال سے عوام کو مسلسل دھوکا دیا جارہا ہے، اس عرصے میں عوام کی زندگی ہر آنے والے نئے دور میں مزید عذاب ناک بنتی چلی گئی ہے۔ 11 مئی 2013 کے بعد مسلم لیگ (ن) کے خاندان کی نئی حکومت عوام سے وہی وعدے دہرا رہی ہے جو 65 سال سے دہرائے جارہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور بھی اس لیے ممکن نہیں کہ یہاں کا پیش منظر اس قدر ہولناک ہے کہ اس سے نجات کی بھی کوئی امید نہیں۔ پچھلی حکومتوں کی نااہلی نے جو مسائل پیدا کردیے ہیں وہ اس قدر گمبھیر ہیں کہ عوام روٹی، روزگار، تعلیم، علاج کو پس پشت ڈال کر صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں ہمارے خاندان کو زندگی کا تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ نے انھیں گھر کے اندر اور گھر کے باہر غیر محفوظ بنادیا ہے، عوام بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ سے اس قدر پریشان ہیں کہ وہ اس سے نجات کا مطالبہ کر رہے ہیں بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہزاروں کارخانے بند ہوگئے ہیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں، عوام گرمی سے بچنے کے لیے پنکھے جھل رہے ہیں اور گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے لکڑیاں جلانے پر مجبور ہورہے ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں