با عمل، حقگو..!
ایک مرتبہ حضرت ،ولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ ﷲ دیوبند سے لاھور تشریف لاےٴ، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ ﷲ بھی ان کے ھمراہ تھے، اس زمانے میں رسول مہر اور عبد المجید سالک پنجاب کے مشھور صحافی اور اھل قلم تھے، ان حضرات نے حضرت شاہ صاحب کی آمد پر اخبارات میں شہ سرخی لگائی
"لاھور میں علم و عرفان کی بارش"
اور پھر ملاقات کے لیے حاضر ھوےٴ،
اثناء گفتگو میں سود کا مسئلہ چل نکلا، سالک مرحوم نے علامہ عثمانی رحمہ ﷲ سے سوال کیا کہ بینک انٹرسٹ کو سود قرار دینے کی کیا وجہ ھے؟ علامہ عثمانی رحمہ ﷲ نے انھیں جواب دیا، مگر انھوں نے پھر کوئی سوال کیا، اس طرح سوال جواب کا سلسلہ کچھ دراز ھوگیا، علامی عثمانی رحمہﷲ ھر بار مفصل جواب دیتے، مگر وہ پھر کوئی اعتراض کردیتے، سالک صاحب ان لوگوں کی وکالت کر رھے تھے، جو بینکوں کے سسٹم کو جائز قراردیتے ھیں، حضرت شاہ صاحب بھی مجلس میں تشریف فرما تھے، حضرت کی عادت چونکہ یہ تھی کہ شدید ضرورت کے بغیر بولتے نہ تھے، نہ اپنا علم جتاتے تھے، لیکن جب بحث لمبی ھونے لگی تو حضرت نے مداخلت کی اور بے تکلفی سے فرمایا:
"دیکھو بھائی سالک! تم ھو سالک میں ھوں مجذوب، میری بات کا برا نہ منانا، بات یہ ھے کہ ﷲ تعالی کا بنایا جھنم بھت وسیع ھے، اگر کسی شخص کا وھاں جانے کا ارادہ ھو تو اس میں کوئی تنگی نھیں ھے، ھم اس کو روکنے والے کون ھیں؟ ہاں! البتہ اگر کوئی شخص ھماری گردن پر پاوٴں رکھ کے جانا چاھے گا تو ھم اس کی ٹانگ پکڑ لیں گے۔"
ایک مرتبہ حضرت ،ولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ ﷲ دیوبند سے لاھور تشریف لاےٴ، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ ﷲ بھی ان کے ھمراہ تھے، اس زمانے میں رسول مہر اور عبد المجید سالک پنجاب کے مشھور صحافی اور اھل قلم تھے، ان حضرات نے حضرت شاہ صاحب کی آمد پر اخبارات میں شہ سرخی لگائی
"لاھور میں علم و عرفان کی بارش"
اور پھر ملاقات کے لیے حاضر ھوےٴ،
اثناء گفتگو میں سود کا مسئلہ چل نکلا، سالک مرحوم نے علامہ عثمانی رحمہ ﷲ سے سوال کیا کہ بینک انٹرسٹ کو سود قرار دینے کی کیا وجہ ھے؟ علامہ عثمانی رحمہ ﷲ نے انھیں جواب دیا، مگر انھوں نے پھر کوئی سوال کیا، اس طرح سوال جواب کا سلسلہ کچھ دراز ھوگیا، علامی عثمانی رحمہﷲ ھر بار مفصل جواب دیتے، مگر وہ پھر کوئی اعتراض کردیتے، سالک صاحب ان لوگوں کی وکالت کر رھے تھے، جو بینکوں کے سسٹم کو جائز قراردیتے ھیں، حضرت شاہ صاحب بھی مجلس میں تشریف فرما تھے، حضرت کی عادت چونکہ یہ تھی کہ شدید ضرورت کے بغیر بولتے نہ تھے، نہ اپنا علم جتاتے تھے، لیکن جب بحث لمبی ھونے لگی تو حضرت نے مداخلت کی اور بے تکلفی سے فرمایا:
"دیکھو بھائی سالک! تم ھو سالک میں ھوں مجذوب، میری بات کا برا نہ منانا، بات یہ ھے کہ ﷲ تعالی کا بنایا جھنم بھت وسیع ھے، اگر کسی شخص کا وھاں جانے کا ارادہ ھو تو اس میں کوئی تنگی نھیں ھے، ھم اس کو روکنے والے کون ھیں؟ ہاں! البتہ اگر کوئی شخص ھماری گردن پر پاوٴں رکھ کے جانا چاھے گا تو ھم اس کی ٹانگ پکڑ لیں گے۔"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں