ہفتہ، 22 جون، 2013


اس کہانی کے راوی ایک معتبر کالم نگار ھیں جو تحریک انصاف خصوصا عمران خان کے حق میں مسلسل کالم لکھتے رھے۔ ۔عمران خان جب گرے تو اس رات بھی ھمارے سینئر کالم نگار ہسپتال میں خان صاحب کے پاس تھے۔ ۔ ھمارے سینئر دوست نجی محفل میں ایک واقعہ سناتے ھیں ۔ ۔ ان کے مطابق جب پرویز مشرف صاحب صدر تھے تو ایک رات اسلام آباد کے ایک ایس پی صاحب کو آدھی رات کے بعد ہنگامی فون کال موصول ھوئی۔ انہیں فورا مری جانے اور ایک اھم معاملہ "حل" کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت مری میں صدر محترم موجود تھے لہذا ایس پی گھبرا گیا اور پوچھا صدر صاحب تو ٹھیک ھیں ؟ کوئی حملہ تو نہیں ھوا؟ اسے بتایا گیا کہ صدر صاحب محفوظ ھیں لیکن وہ فورا پوری تیاری کے ساتھ مری پہنچ جائیں ۔ ایس پی صاحب کے بقول جب وہ مری گئے تو "سرکاری گھر" کے باہر سڑک پر ایک خاتون مکمل برھنہ حالت میں کھڑی جنرل کو ننگی گالیاں بک رہی تھی۔ ایس پی کے ساتھ موجود لیڈی پولیس نے آگے ھو کر معاملہ حل کیا اور خاتون کو واپس اندر جانے پر آمادہ کر لیا۔ ۔ راوی کے بقول وہ خاتون تحریک انصاف کا چہرہ مہرہ ھیں اور اس الیکشن میں انہیں شکست ھوئی جبکہ ان کی بہن کو ن لیگ کی ٹکٹ پر کامیابی نصیب ھوئی۔ ۔ ۔براہ مہربانی گالیاں راوی کو نکالیے گا کیونکہ میں ابھی اس سوچ میں گم ھوں کہ پولیس ، جنرل ، تحریک انصاف ، ن لیگ ۔ عوام اور وغیرہ وغیرہ میں سے کون ٹھیک ھے اور کون غلط۔ ۔ ۔ ٹکٹ دینے والے بھی تو ذمہ دار ھوتے ھیں اور ووٹ دینے والے بھی۔ ۔ کیا یہ سارا سسٹم ھی غلط بنیادوں پر قائم ھے؟؟؟؟ میں نے ایس پی، کالم نگار اور سیاست دانوں سمیت کسی کا نام نہیں لکھا ۔ ۔ کیونکہ میرا مقصد ذاتی سطح پر کیچڑ اچھالنا نہیں بلکہ ھمارا سیاسی ماحول واضح کرنا تھا ۔ ۔ورنہ راوی نجی محفلوں میں چسکے لے لے کر نام بھی بیان فرماتے ھیں ۔ ۔ (سید بدر سعید)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں