اسلام آباد کہنے میں تو ایک چھوٹا سا شہر ہے مگر اس کے ہر کونے میں مگرمچھوں کے اڈے ہیں۔ قبضہ گروپ ہوں،اغوا برائے تاوان مافیا، غیر قانونی کاروبار کرنے والے ہوں یا غیر ملکی سفارتکار جو یہاں کی سڑکوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، یہ سب یہاں آباد ہیں۔ اس شہر میں بدعنوان افسر شاہی (جس کی بہتر ین مثال CDA ہے) اور پٹواری اتنا ہی طاقتور ہے جتنا یہاں کا ایس ایچ او۔ اسی شہر میں حفیہ اداروں کا سکہ بھی چلتا ہے اور ان بڑ ے ہوٹلوں کا ڈنڈا بھی جو اپنی من پسند سڑکو ں پر ایسے قبضہ کر لیتے ہیں جیسے طالبان کسی زمانے میں چیک پوسٹوں پر کیا کر تے تھے۔
ہفتہ، 22 جون، 2013
اسلام آباد کہنے میں تو ایک چھوٹا سا شہر ہے مگر اس کے ہر کونے میں مگرمچھوں کے اڈے ہیں۔ قبضہ گروپ ہوں،اغوا برائے تاوان مافیا، غیر قانونی کاروبار کرنے والے ہوں یا غیر ملکی سفارتکار جو یہاں کی سڑکوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، یہ سب یہاں آباد ہیں۔ اس شہر میں بدعنوان افسر شاہی (جس کی بہتر ین مثال CDA ہے) اور پٹواری اتنا ہی طاقتور ہے جتنا یہاں کا ایس ایچ او۔ اسی شہر میں حفیہ اداروں کا سکہ بھی چلتا ہے اور ان بڑ ے ہوٹلوں کا ڈنڈا بھی جو اپنی من پسند سڑکو ں پر ایسے قبضہ کر لیتے ہیں جیسے طالبان کسی زمانے میں چیک پوسٹوں پر کیا کر تے تھے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں