ہفتہ، 22 جون، 2013

ہیگل مارکس اور اینجلز کے بعد کوئی ایسا مفکر فلسفی اور نظریہ ساز پیدا نہ ہوا جو دنیا کے سامنے آج کے حالات کے تقاضوں کے مطابق کوئی ایسا قابل عمل نظریہ پیش کرسکے جو دنیا کی 90 فیصد آبادی کو اس طبقاتی استحصال سے بچاسکے۔
اس کمزوری نے طبقاتی نظام کے محافظوں کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ دنیا کو اس بات پر قائل کرلیں کہ اس طبقاتی نظام کے بغیر گزارا ممکن نہیں اور ان کی کامیابی کا اندازہ اس افسوس ناک حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ملک جو طبقاتی نظام کے خلاف وجود میں آئے تھے وہ بھی آج اس نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام کے رکھوالوں نے اس نظام کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بنا رکھا ہے کہ مڈل کلاس میں کتنا اضافہ ہورہا ہے یہ دیکھا جائے اور یہی پیمانہ بالواسطہ طور پر اس نظام کی تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ معاشی انصاف پر مبنی نظام کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی اس 90 فیصد آبادی کو آسودہ زندگی گزارنے کا موقع ملے جو اپنی محنت سے دنیا کو رزق سمیت زندگی کی ہر ضرورت اشیائے صرف اور اشیائے تعیش پیدا کرکے دیتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں