میاں صاحبان عوام کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ان کی نیت پر کوئی شک ہے نہ شبہ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عوام کے لیے بہت کچھ کرنے سے پہلے عوام کی جان ومال کا تحفظ ضروری ہے اور عوام کے جان و مال کی دشمن طاقتیں خود ہمارے حکمرانوں کی سیاسی مصلحتوں اور نااہلی کی وجہ سے اس قدر مضبوط اور مستحکم ہوگئی ہیں کہ وہ بات چیت بھی اپنی شرائط پر کرنا چاہتی ہیں۔ وہ جس کو چاہتی ہیں، جہاں چاہتی ہیں، جب چاہتی ہیں ایک بھیانک موت سے دوچار کرسکتی ہیں کوئی ریاستی طاقت انھیں روکنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ہوسکتا ہے میاں صاحب کے لیے ان اندھی بہری طاقتوں کے دل میں نرم گوشہ ہو لیکن ان کے مقاصد اس قدر واضح ہیں کہ ان کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔
کیا میاں صاحب ان طاقتوں کو ان کے اہداف سے دست بردار کرانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ ہم نے یہاں ابھی نہ گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ کی بات کی ہے، نہ مہنگائی کی بات کی ہے، نہ بے روزگاری کی بات کی ہے، نہ تعلیم اور علاج کی بات کی ہے، نہ آسودہ زندگی کی بات کی ہے، نہ ویلفیئر اسٹیٹ کی بات کی ہے، کیونکہ یہ ساری باتیں ساری ضرورتیں زندہ رہنے سے مشروط ہیں اور ملک کا کوئی ادارہ عوام کو زندہ رہنے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ ہے ہماری زندگی یہ ہے ہماری ریاست یہ ہے ہماری حکومت ہم دعا گو ہیں کہ سب سے پہلے میاں برادران عوام کو زندگی کا تحفظ ہی فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ نظام کی تبدیلی معاشی انصاف تو بہت دور کی باتیں ہیں۔
جا بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں