اب ہماری جرائمی ترقی کا عالم یہ ہے کہ شارٹ ٹرم اغوا کا نیا کلچر متعارف کرایا گیا ہے جس میں اغوا کنندگان مغوی کو اس کی کار میں اس وقت تک گھماتے رہتے ہیں جب تک اغوا کا تاوان وصول نہ ہوجائے۔ اسٹریٹ کرائم کا حال یہ ہے کہ کوئی بینک سے رقم نکال کر گھر تک محفوظ نہیں جاتا۔ موبائل، موٹرسائیکل، کار چھیننا عام بات ہے۔ یہ ساری نعمتیں ہماری اشرافیائی جمہوریت کی عطا ہیں۔ ان جان لیوا مسائل نے عوام کے ذہن سے روٹی کپڑے مکان کا تصور چھین لیا ہے اور اس کی اولین ترجیح جان کی سلامتی ہے۔ آسودہ زندگی اور ویلفیئر اسٹیٹ تو آج کے منظر نامے میں خواب کی باتیں بن کر رہ گئی ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں