ہفتہ، 22 جون، 2013

اب ہماری جرائمی ترقی کا عالم یہ ہے کہ شارٹ ٹرم اغوا کا نیا کلچر متعارف کرایا گیا ہے جس میں اغوا کنندگان مغوی کو اس کی کار میں اس وقت تک گھماتے رہتے ہیں جب تک اغوا کا تاوان وصول نہ ہوجائے۔ اسٹریٹ کرائم کا حال یہ ہے کہ کوئی بینک سے رقم نکال کر گھر تک محفوظ نہیں جاتا۔ موبائل، موٹرسائیکل، کار چھیننا عام بات ہے۔ یہ ساری نعمتیں ہماری اشرافیائی جمہوریت کی عطا ہیں۔ ان جان لیوا مسائل نے عوام کے ذہن سے روٹی کپڑے مکان کا تصور چھین لیا ہے اور اس کی اولین ترجیح جان کی سلامتی ہے۔ آسودہ زندگی اور ویلفیئر اسٹیٹ تو آج کے منظر نامے میں خواب کی باتیں بن کر رہ گئی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں