ہفتہ، 22 جون، 2013

Saadullah Malik
سات ارب انسانوں پر مشتمل ہماری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ انسانوں کی طبقاتی تقسیم ہے۔ کئی طبقات پر مشتمل اس دنیا کا سب سے بڑا طبقہ Have Not یعنی ان محروم اور محکوم لوگوں کا ہے جنگی ساری زندگی دو وقت کی روٹی کے پیچھے بھاگتے گزرجاتی ہے۔ اس طبقاتی ظالمانہ نظام کو بدلنے کی عملی اور نظریاتی کوششیں جو افراد اور جو جماعتیں کرتی رہی ہیں وہ خواہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی ہوں یا ناکام، قابل مبارکباد، قابل تحسین، قابل احترام ہیں۔ دنیا کے تمام ملکوں کا حکمران طبقہ اور سیاستدان چونکہ Have سے تعلق رکھتے ہیں اور اس نظام کے ثمرات سے مالامال ہوتے ہیں لہٰذا ان سے یہ امید کرنا کہ وہ اس طبقاتی نظام کو ختم کردیں گے ایک احمقانہ خیال کے علاوہ کچھ نہیں۔
اس حوالے سے فطری طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے اور واضح ظلم کے خلاف آخر کوئی منظم تحریک کیوں نہیں اٹھتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ درمیانے طبقے کے وہ لوگ جو اس ظلم کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بدقسمتی سے خوب سے خوب تر کی تلاش میں اس قدر مصروف ہوجاتے ہیں کہ انھیں ان کی تاریخی ذمے داری تک یاد نہیں رہتی،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں