جمعرات، 20 جون، 2013

جماعت احمدیہ کے تنخواہ دار تبلیغیوں اور انکے حواریوں کو چیلنج 

مرزا غلام احمد کے اپنے الفاظ کے مطابق جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کی گئی قرانی تفسیر میں سوره الحاقہ کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ سچے دعوے کیلئے ضروری ہے کہ اسکے لئے تئیس سال کی معیاد پوری ہو کیونکہ جب کوئی شخص خود کو خدا سے منسوب کرکے کوئی دعوی کرے تو اس کے صحیح یا غلط ہونے کا پیمانہ رسول الله کی نبوت سے وفات تک کا زمانہ یعنی تئیس سال کا عرصۂ ہے یعنی کہ اس شخص کا اپنے دعوی کے بعد تئیس سال تک زندہ رہنا ضروری ہے اگر پہلے مر گیا تو دعوی جھوٹا ثابت ہو گا . اب آتے ہیں مرزا غلام احمد کے اپنے دعوؤں پر تو انہوں نے دو دعوے کیے تھے کتاب اربائیں میں درج ہے کہ مجدد یت کا دعوی اٹھارہ سو پچاسی میں کیا گیا تھا اور وفات انیس سو آٹھ میں ہوئی اس کے مطابق تیئسویں برس وفات ہوئی . اور دوسرا دعوی مسیحیت امام مہدی زلی نبوت کا تھا جو اٹھارہ سو اکانوے میں کیا تھا جس کے مطابق وفات تک سترہ سال کا عرصۂ لگا . اور یہ دعوی انکے اپنے ہی الفاظ کے مطابق غلط ثابت ہو گیا تھا . جبکہ یہی دعوی نبوت آجتک احمدی اور غیر احمدیوں میں متنازعہ کی وجہ ہے مجددیت پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے وہ تو بیشمار آئے اور گئے مگر امام مہدی مسیحیت اور نبوت پر سبھی کو اعتراض ہے کیا ہے اسکا کوئی جواب .

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں