جماعت احمدیہ کے تنخواہ دار تبلیغیوں اور انکے حواریوں کو چیلنج
مرزا غلام احمد کے اپنے الفاظ کے مطابق جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کی گئی قرانی تفسیر میں سوره الحاقہ کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ سچے دعوے کیلئے ضروری ہے کہ اسکے لئے تئیس سال کی معیاد پوری ہو کیونکہ جب کوئی شخص خود کو خدا سے منسوب کرکے کوئی دعوی کرے تو اس کے صحیح یا غلط ہونے کا پیمانہ رسول الله کی نبوت سے وفات تک کا زمانہ یعنی تئیس سال کا عرصۂ ہے یعنی کہ اس شخص کا اپنے دعوی کے بعد تئیس سال تک زندہ رہنا ضروری ہے اگر پہلے مر گیا تو دعوی جھوٹا ثابت ہو گا . اب آتے ہیں مرزا غلام احمد کے اپنے دعوؤں پر تو انہوں نے دو دعوے کیے تھے کتاب اربائیں میں درج ہے کہ مجدد یت کا دعوی اٹھارہ سو پچاسی میں کیا گیا تھا اور وفات انیس سو آٹھ میں ہوئی اس کے مطابق تیئسویں برس وفات ہوئی . اور دوسرا دعوی مسیحیت امام مہدی زلی نبوت کا تھا جو اٹھارہ سو اکانوے میں کیا تھا جس کے مطابق وفات تک سترہ سال کا عرصۂ لگا . اور یہ دعوی انکے اپنے ہی الفاظ کے مطابق غلط ثابت ہو گیا تھا . جبکہ یہی دعوی نبوت آجتک احمدی اور غیر احمدیوں میں متنازعہ کی وجہ ہے مجددیت پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے وہ تو بیشمار آئے اور گئے مگر امام مہدی مسیحیت اور نبوت پر سبھی کو اعتراض ہے کیا ہے اسکا کوئی جواب .
مرزا غلام احمد کے اپنے الفاظ کے مطابق جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کی گئی قرانی تفسیر میں سوره الحاقہ کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ سچے دعوے کیلئے ضروری ہے کہ اسکے لئے تئیس سال کی معیاد پوری ہو کیونکہ جب کوئی شخص خود کو خدا سے منسوب کرکے کوئی دعوی کرے تو اس کے صحیح یا غلط ہونے کا پیمانہ رسول الله کی نبوت سے وفات تک کا زمانہ یعنی تئیس سال کا عرصۂ ہے یعنی کہ اس شخص کا اپنے دعوی کے بعد تئیس سال تک زندہ رہنا ضروری ہے اگر پہلے مر گیا تو دعوی جھوٹا ثابت ہو گا . اب آتے ہیں مرزا غلام احمد کے اپنے دعوؤں پر تو انہوں نے دو دعوے کیے تھے کتاب اربائیں میں درج ہے کہ مجدد یت کا دعوی اٹھارہ سو پچاسی میں کیا گیا تھا اور وفات انیس سو آٹھ میں ہوئی اس کے مطابق تیئسویں برس وفات ہوئی . اور دوسرا دعوی مسیحیت امام مہدی زلی نبوت کا تھا جو اٹھارہ سو اکانوے میں کیا تھا جس کے مطابق وفات تک سترہ سال کا عرصۂ لگا . اور یہ دعوی انکے اپنے ہی الفاظ کے مطابق غلط ثابت ہو گیا تھا . جبکہ یہی دعوی نبوت آجتک احمدی اور غیر احمدیوں میں متنازعہ کی وجہ ہے مجددیت پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے وہ تو بیشمار آئے اور گئے مگر امام مہدی مسیحیت اور نبوت پر سبھی کو اعتراض ہے کیا ہے اسکا کوئی جواب .
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں