خودداری اور غیرت!!!!
میں نے طے کیا کہ کسی مستحق کی مدد کی جائے۔ میری بیوی نے چند نام بتلائے مگر میں نے اتفاق نہیں کیا ۔ اس نے کہا کہ پھر آپ خود تلاش کرلیں ۔ میں نے چیلنج قبول کیا اور گھر سے نکل پڑا۔ پہلا شخص جس کو میں نے منتخب کیا وہ ردی کاغذ چننے والا ایک پٹھان لڑکا تھا میں نے اسے کہا کہ میرے ساتھ چلو میں تمہیں نئے کپڑے لے دیتا ہوں میرا خیال تھا کہ بچہ خوش ہوگا اور مان جائے گا، اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا کہ اگر میں نے آپ سے یہ بھیک لینی تھی تو مجھے صبح سے کاغذ چننے کی ضرورت کیا تھی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ یہ تحفہ ہے مگر اس نے میری بات نہیں سنی۔ میں بڑا حیران ہوا۔
دوسرا شخص ایک مالشی تھا جس نے مجھے مالش کروانے کی آفر کی۔ میں نے اسے کہا کہ مالش بعد میں کرائوں گا پہلے آپ کو سوٹ لے دوں اس نے مجھے حیرت سے دیکھا اور کہا کہ جناب آپ نے مجھ سے مالش کروانی ہے تو ٹھیک ہے مگر میں جو بھی لوں گا اپنی محنت کے عوض لوں گا۔ میں نے اسے بتلایا کہ میں آپ کو تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا میں تحفے نہیں لیتا محنت کا معاوضہ لیتا ہوں۔
میں نے اب ایک بوڑھے ریڑھی بان کو منتخب کیا۔ وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا وہ یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ میں اس کی ریڑھی سے کچھ فروٹ لینے آیا ہوں۔ مجھے امید تھی کہ یہ شخص ضرور خوش ہوگا۔ میں نے اسے بتلایا کہ میں اسے اور اسکے خاندان کے لئے تحفے دینا چاہتا ہوں اس نے کہا کہ جناب آپ کچھ فروٹ لے لیں یہی بڑا تحفہ ہے۔ میں نے کہا کہا جناب میں کوئی خیرات نہیں دے رہا میں آپ کو تحفہ دینا چاہتا ہوں۔
اس نے کہا جناب آپکی بڑی عنایت ہوگی آپ ہم غریبوں کو اپنی محنت کے سہارے جینے دیں اپنے تحفوں کی عادت نہ ڈالیں ہم لوگوں کو جھوٹی امیدوں اور ایسے لالچ نہ دیں آپ کو تحفے قبول کرنے والے کافی لوگ مل جائیں گے مگر جو لوگ اپنی محنت کے سہارے زندہ ہیں ان کو محتاج مت بنائیں۔ میں اس عمر میں یہی خواہش رکھتا ہوں کہ جیسے پوری عمر اپنی محنت پر بسر کی ہے اپنی آخری عمر بھی اپنی محنت پر بسر کروں
#عام_آدمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں